وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 355
میں سوچتا ہوں کہ شہرِ شب کو ملامتوں سے رفاقتیں ہیں
وہی تمسخر کا اب ہدف ہیں سحر کو جن سے عقیدتیں ہیں
نظر کی رنگیں مسافتوں کا نہ پوچھ انجام کیا رہا ہے
جنوں کے پُرسوزرتجگوں میں کتابِ دل کی تلاوتیں ہیں
بہکتی راتوں کی چاندنی سے بہلتی زرپوش زندگی ہے
قزح کے رقاص شیش محلوں کو صرف شاموں کی چاہتیں ہیں
خزاں کی سرکش جسارتوں نے مرے وطن کی بہار یں لوٹیں
چمن کی خود ساختہ رُتوں میں منافقت کی حکومتیں ہیں
درندگی کی یہ فکرِ تازہ یہ پاگلوں کے قتالِخود کُش
خرد کے پرہول فیصلے ہیں ستم کی اندھی روایتیں ہیں
وفاکے منصور معبدوں میں دکھوں کی آتش بجھی نہیں ہے
تری نوازش کے سلسلے ہیں تری نظر کی عنایتیں ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s