وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 237
خوابِ گل کی جو پہیلی دیکھتی ہو
وصل کی پہلی چنبیلی دیکھتی ہو
پتھروں کو کاٹتا رہتا ہوں دن بھر
کیا مری چھو کر ہتھیلی دیکھتی ہو
بات کر سکتے ہیں ہم دونوں یہاں پر
ہے سڑک کتنی اکیلی دیکھتی ہو
غم کی صدیوں کا کھنڈر ہوں تیرے بعد
جسم کی خالی حویلی دیکھتی ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے چشم و لب میں
بولتی ہو رت، چنبیلی دیکھتی ہو
بات خوشبو کی اچانک موسموں نے
چھین اس کے ہونٹ سے لی، دیکھتی ہو
مجھ میں دیکھو بیٹھ کر اس کو کوئی دن
خود میں کیا دلہن نویلی دیکھتی ہو
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s