وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 498
ہر لمحہ تازہ قتل کا امکان کس لئے
وحشت میں مبتلا ہوا انسان کس لئے
میں سوچتا ہوں دیکھ کے اڑتے ہوئے پرند
لایا ہوں ہفتہ بھر کا یہ سامان کس لئے
شاخیں لدی ہوئی ہیں گلابوں سے غیر کی
خالی ہے میری ذات کا گلدان کس لئے
جنت نما ہیں اہل ستم کی ریاستیں
اپنے دیارِ زندگی ویران، کس لئے
رائج جہاں میں کیوں ہوئی جنگل کی شہریت
کچھ بھیڑیاصفت ہوئے سلطان کس لئے
کیا جانوں کس نے پیٹھ لگائی تھی اس کے ساتھ
پھیلا ہوا پیڑ میں سرطان کس لئے
آخر کہاں گئی ہیں وہ کرنیں وہ گرم دھوپ
ویراں پڑا ہوا ہے یہ دالان کس لئے
آسیب پھر رہا ہے کوئی میرے ساتھ ساتھ
ہونے لگا ہے روزہی نقصان کس لئے
جاتے نہیں ہیں لوٹ کے اپنے ستاروں پر
منصور کائنات کے مہمان کس لئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s