نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 225
صلیبیں دور یہ گاڑو کہیں ،معافی دو
نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو
اتار سکتا نہیں ہوں میں قرض مٹی کے
اے میرے دیس اے میری زمیں معافی دو
کسی کے سامنے جھکنا مجھے نہیں آتا
سجودِ خاک سے عاری جبیں معافی دو
خدا سے میرے مراسم میں تم نہیں موجود
بہشتِ نہر مہ و انگبیں معافی دو
نہیں ہے سانپ کو بھی مارناروا مجھ پر
لپکتے مارِ کفِ آستیں معافی دو
وجودِ وحدتِ کل سے جدا نہیں ہوں میں
شہودِ شر کے بزرگِ لعیں معافی دو
نکلنے کو مرے ہاتھوں سے ہے نمازِ عشا
عکاظِ نو کی شبِ آتشیں معافی دو
یہاں گنہ ہے تمنا، یہ ہے رہِ منصور
دیارِ دست طلب کے نگیں معافی دو
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s