نکال لایا ہے حرص و ہواکی صحبت سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 534
فقیر اپنا ستارہ خدا کی رحمت سے
نکال لایا ہے حرص و ہواکی صحبت سے
ثباتِذات کا اثبات کرلیا لیکن
گریزپا ہوں نفی سے فنا کی چاہت سے
مری گلی سے سویرے گزارنے والو
میں زخم زخم ہوں بادِ صبا کی نکہت سے
دکھائی دیتا ہے طوفان کوئی آیا ہوا
کواڑ ٹوٹ نہ جائیں ہوا کی وحشت سے
خدا نہیں ہے کہ اس کا شریک کوئی نہ ہو
اسے بھی چاہوں تمہیں بھی بلا کی شدت سے
کچھ اور ہوتے روشن ستم کی راہوں میں
دئیے،مصیبتِ بے انتہا کی ظلمت سے
بڑے وقار سے ٹکرا رہے ہیں پھرمنصور
ضمیر وقت کے، فرماروا کی قوت سے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s