نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 387
رات کا شور، اندھیروں کی زباں سنتے ہیں
نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں
ایک سقراط نے زنجیر بپا آنا ہے
دوستو آؤ عدالت میں بیاں سنتے ہیں
کیوں پلٹتی ہی نہیں کوئی صدا کوئی پکار
یہ تو طے تھا کہ مرے چارہ گراں سنتے ہیں
اب بدلنی ہے شب و روز کی تقویم کہ لوگ
شام کے وقت سویرے کی اذاں سنتے ہیں
ایسے منفی تو لب و دیدہ نہیں ہیں اس کے
کچھ زیادہ ہی مرے وہم و گماں سنتے ہیں
بات کرتی ہے ہوا میری نگہ سے منصور
اور رک رک کے مجھے آبِ رواں سنتے ہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s