ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 501
دل میں پڑی کچھ ایسی گرہ بولتے ہوئے
ناخن اکھڑ گئے ہیں اسے کھولتے ہوئے
سارے نکل پڑے تھے اسی کے حساب میں
بچوں کی طرح رو پڑی دکھ تولتے ہوئے
میں کیا کروں کہ آنکھیں اسے بھولتی نہیں
دل تو سنبھل گیا ہے مرا ڈولتے ہوئے
کہنے لگی ہے آنکھ میں پھر مجھ کو شب بخیر
پانی میں شام اپنی شفق گھولتے ہوئے
کنکر سمیٹ لائے ہمیشہ مرا نصیب
منصور موتیوں کو یونہی رولتے ہوئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s