میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 281
زمانے سے بچھڑنا چاہتا ہوں
میں فائل بند کرنا چاہتا ہوں
مقام صفر سے ملنے کی خاطر
کسی ٹاور سے گرنا چاہتا ہوں
لہومیں کالے کتے بھونکتے ہیں
کسی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں
یہ کیوں پستی سے کرتا ہے محبت
میں پانی کو سمجھنا چاہتا ہوں
کبھی وحشی مسائل سے نکل کر
تجھے کچھ دیر رونا چاہتا ہوں
ذرا اونچی کرو آواز اس کی
ہوا کی بات سننا چاہتا ہوں
میں ہلکی ہلکی نیلی روشنی میں
بدن کا بورڈ پڑھنا چاہتا ہوں
پڑا ہوں بند اپنی ڈائری میں
کہیں پہ میں بھی کھلنا چاہتا ہوں
ازل سے پاؤں میں ہے ریل گاڑی
کہیں منصور رکنا چاہتا ہوں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s