میں سنگ صفت تو نہیں رویا اسے کہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 52
ٹوٹا ہوا سینے میں کوئی تھا اسے کہنا
میں سنگ صفت تو نہیں رویا اسے کہنا
اک آگ لگا دیتے ہیں برسات کے دل میں
ہم لوگ سلگتے نہیں تنہا اسے کہنا
دروازے پہ پہرے سہی گھر والوں کے لیکن
کھڑکی بھی بنا سکتی ہے رستہ اسے کہنا
اے بجھتی ہوئی شام ! محبت کے سفر میں
اک لوٹ کے آیا تھا ستارہ اسے کہنا
نازل ہوں مکمل لب و عارض کے صحیفے
ہر شخص کا چہرہ ہے ادھورا اسے کہنا
شہ رگ سے زیادہ ہے قریں میرا محمدﷺ
لولاک سے آگے ہے مدینہ اسے کہنا
منصور مزاجوں میں بڑا فرق ہے لیکن
اچھا مجھے لگتا ہے بس اپنا اسے کہنا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s