میں جا رہا ہوں گلی سے معانقہ کر کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 579
یہ مارکر سے لکھا گیٹ پر بڑا کر کے
میں جا رہا ہوں گلی سے معانقہ کر کے
تُو زود رنج ہے لیکن برا نہیں دل کا
فریب دیتا ہوں خود کو ترا گلہ کر کے
میں کیا بتاؤں شبِ التفات کا قصہ
گلی میں چھوڑ دیا اس نے باولا کر کے
میں فلم کا کوئی ہیرو نہیں مگر اس کو
بھلا دیا ہے قیامت کا حوصلہ کر کے
سپیڈ میں نے بڑھا دی ہے کار کی منصور
قریب ہونے لگی تھی وہ فاصلہ کر کے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s