میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 211
روشن چراغ کر کوئی ، شب خانہ ، آنکھ کھول
میں آ گیا ہوں مجلسِ جانانہ ، آنکھ کھول
اے چشمۂ کلام ابل۔۔ اے شعوربول
میرے قلم کی جراتِ رندانہ ۔۔آنکھ کھول
میدانِ کار زار ترا منتظر ہے ۔ جاگ
حرف و ہنر کی صبحِ شہیدانہ ۔آنکھ کھول
سب لے گیا معاش ترا عہدِ بدمعاش
لاہورکے شعورِ شریفانہ ، آنکھ کھول
تبدیل ہو چکی ہے زمانے کی کیفیت
منصور کی اے روحِ فقیرانہ، آنکھ کھول
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s