مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 622
کتاب ہاتھ میں ہے اور کج، کلاہ میں ہے
مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے
بلند بام عمارت کی آخرش منزل
مقامِ صفر کی بے رحم بارگاہ میں ہے
پڑی ہے ایش ٹرے میں سلگتے لمس کی راکھ
ملن کی رات ابھی عرصہء گناہ میں ہے
بھٹکتا پھرتا ہوں ظلمات کے جزیرے میں
بڑا اندھیرا کسی دیدئہ سیاہ میں ہے
پسِ فراق ہے موجود وصل کا چہرہ
چراغ صبحِ ازل سے مزارِ آہ میں ہے
ترے وصال کی راتوں کی خیر ہو لیکن
وہ بات تجھ میں نہیں ہے جو تیری چاہ میں ہے
کبھی تو ہو گا تمنا کی منزلوں سے پرے
ابھی تو تیرا مسافر طلب کی راہ میں ہے
رکا نہیں ہوں کسی ڈاٹ کام پر منصور
گلوب پاؤں تلے تو خلا نگاہ میں ہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s