منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 182
ہیں خوفناک ہجر کے یہ المیے پلیز
منہ کو کلیجہ آتا ہے کچھ کیجئے پلیز
باقی ہیں انتظار کی کچھ ساعتیں ابھی
جلنے دو بام پر ابھی سارے دئیے پلیز
اب کاٹنے لگی ہے خموشی کی تیز دھار
کہیے پلیز کچھ مجھے ،کچھ بولیے پلیز
رہتے نہیں ہمیشہ تو ایسے خراب دن
خود کو سنبھالئے یہ دوا لیجئے پلیز
پہلے بہت اداس ہے شب کاسیہ مزاج
ایسے میں یہ سنائیے نہ ماہیے پلیز
منصور آگئی ہے وہ باہر گلی میں صبح
جانے بھی دیجئے ہمیں اب دیکھئے پلیز
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s