منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 247
بادِ صبا کے ساتھ صدائے فلاح دھوپ
منصور شامِ غم میں بھی کارِ مباح دھوپ
آنسو رکے ہوئے ہیں کہیں بادلوں کے بیچ
پھیلی ہے چشمِ یاد کے گرد و نواح دھوپ
فتووں کے ابر سے کسی پردے میں جا چھپی
رکھی ہوئی تھی گھر میں جو اک بے نکاح دھوپ
اندھی شبوں میں حضرتِ اقبال آفتاب
برفاب موسموں میں جنابِ جناح دھوپ
ہم لمس ہوں تو ذات کا دریا بہے کوئی
تیرا مذاق برف ہے میرا مزاح دھوپ
ہو جاؤں ساحلوں پہ برہنہ، نہیں ، نہیں
کیسی یہ دے رہی ہے مسلسل صلاح دھوپ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s