ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 349
اتفاقات سے بگڑ کے میں
ملتا خود سے بھی تھا اکڑ کے میں
طشت میں سر بھی اپنا رکھتا تھا
رقص بھی دیکھتا تھا دھڑ کے میں
حل کروں کیسے عقل مندی سے
مسئلے پاگلوں کی بڑ کے میں
کہہ رہا تھا یہ چہرہ لڑکی کا
زندگی ہے بلا کی لڑکے میں
ہجر کی کیفیت ابھی تک تھی
بولتا تھا اکھڑ اکھڑ کے میں
سانس تو لکڑیاں بھی لیتی ہیں
جی رہا ہوں کہاں بچھڑ کے میں
سایوں کے بیچ گزرا کرتا تھا
اُس گلی سے سکڑ سکڑ کے میں
اٹھ کھڑا تھاکسی کی آمد پر
اپنی دیوار کو پکڑ کے میں
دل دھڑکتا تھا ایک دنیا کا
جڑ گیا ہوں کہیں ،اجڑ کے میں
کیسے منصور خالی بستر تھا
لوٹ آیا تھا تڑکے تڑکے میں
اپنے بیٹوں صاحب منصور اور عادل منصور کیلئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s