مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 142
گمانِ صبح ہے کافی، خیالِ نور بہت
مرے لیے یہ ذرا سا چراغِ طور بہت
میں بارگاہِ محبت میں کس طرح جاؤں
مرے گناہ بہت ہیں مرے قصور بہت
یہی بہت کہ خزاں میں بہار ہے مجھ پر
ہے پھول پھول، یہی شاخ کو شعور بہت
تمام عہد نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہیں
ہوا ہے شعر میں شاید مرا ظہور بہت
یہ میرے بیگ میں رکھ دے نا کانچ کے ٹکڑے
میں بھیج دوں گا نئی چوڑیاں ، ضرور، بہت
نصیب، نسبتِ دشتِ عرب جسے منصور
بروز حشر وہی سایۂ کھجور بہت
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s