مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 420
دکھائی دے نگاہوں کو چراغِ طور کا چہرہ
مرے سرمد کی رعنائی ، مرے منصور کا چہرہ
مسلسل ابر وباراں میں کئی صدیاں گزار آئیں
دمشقِ صبح کی آنکھیں ، فراتِ نور کا چہرہ
جنابِ شیخ کو غلمان کی آنکھیں پسند آئیں
مجھے اچھا لگا اک کھکھلاتی حور کا چہرہ
مری تہذیب کا نغمہ ، اذاں میرے تمدن کی
یہی میلاد کی آنکھیں یہی عاشور کا چہرہ
اندھیری رات سے اُس زلف کوتشبیہ کیسے دوں
بھرا ہے غم کی کالک سے شبِ دیجور کا چہرہ
سنو جنت کے پھولوں سے کہیں بڑھ کر ہے پاکیزہ
کڑکتی دھوپ میں کھلتا ہوا مزدور کا چہرہ
ستم ہے لوگ پاکستان کہتے ہیں اسے منصور
بدلتاہے جہاں اقدار کا دستور کا چہرہ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s