مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 530
مجھے شوخ و شنگ لباس میں کوئی دلربا نہ ملا کرے
مرا دل تو جیسے جنازہ گہ کہیں مرگ ہو تو بسا کرے
بڑی سر پھری سی ہوا چلے کہیں شامِ دشت خیال میں
مرے راکھ راکھ سے جسم کو کوئی ریت پر نہ لکھا کرے
تری کائنات میں قید ہوں بڑے مختصر سے قفس میں ہوں
بڑی سنگ زاد گھٹن سی ہے مجھے کوئی اس سے رہا کرے
مرے ہر گناہ و ثواب کو یہ چھپا لے اپنے لباس میں
بڑی لاج پال ہے تیرگی، کوئی رات کا نہ گلہ کرے
مرا ذکر و فکر ہوا کرے تری بارگاہِ خیال میں
مرے داغِ سجدہ کو چومنے تری جا نماز بچھا کرے
اسے پوچھنا کہ وصال کا کوئی واقعہ بھی عدم میں ہے
وہ جو خامشی کے دیار میں کسی ان سنی کو سنا کرے
ترا وصل آبِ حیات ہے ترے جانتے ہیں محب مگر
ہے طلب درازیِ عمر کی کوئی موت کی نہ دعا کرے
مرے جسم و جاں سے پرے کہیں بڑی دور خانہء لمس سے
کوئی خانقاہی کبوتری کہیں گنبدوں میں رہا کرے
کوئی قم بہ اذنی کہے نہیں کوئی چارہ گر نہ نصیب ہو
مرا اور کوئی خدا نہ ہو ترے بعد جگ میں خدا کرے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s