مجھے سوال کا کیسا حسیں جواب ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 39
سفید طشت میں اک کاسنی گلاب ملا
مجھے سوال کا کیسا حسیں جواب ملا
ملی شرابِ کرم ہم گناہگاروں کو
جنابِ شیخ کو بس وعدۂ شراب ملا
یہ آنکھیں لیں جو دیکھنا نہیں ممکن
کسی مقام پہ سر چشمۂ غیاب ملا
میں سرخ سرخ رتوں سے بڑا الرجک ہوں
مجھے ہمیشہ لہو رنگ آفتاب ملا
مجھے چراغ کی خواہش ذرا زیادہ ہے
وہ رات ہوں جسے کوئی نہ ماہ تاب ملا
علوم وصل سے میرا بھی کچھ تعارف ہو
کوئی بیاض دکھا دے کوئی کتاب ملا
سلگ اٹھی ہے تہجد میں وصل کی خواہش
خدائے پاک مجھے منزلِ ثواب ملا
تُو ہار جائے گی غم کا مقابلہ پگلی
شمارِ شامِ محرم سے نہ حساب ملا
ہزار ٹیکس دئیے روڈ کے مگر منصور
میں جس طرف بھی مڑا راستہ خراب ملا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s