لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 2
مدت کے بعد گاؤں میں آیا ہے ڈاکیا
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا
رہنے کو آئی تھی کوئی زہرہ جبیں مگر
دل کا مکان درد نے خالی نہیں کیا
جو زندگی کی آخری ہچکی پہ گل ہوئی
اک شخص انتظار کی اس رات تک جیا
پوچھی گئی کسی سے جب اس کی کوئی پسند
آہستگی سے اس نے مرا نام لے لیا
تارے بجھے تمام، ہوئی رات راکھ راکھ
لیکن مزارِ چشم پہ جلتا رہا دیا
تکیے پہ بُن رہا ہے ترا شاعرِ فراق
منصور موتیوں سے محبت کا مرثیہ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s