لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 621
یخ ہوا ہے برف کا برفیلا پن ہے
لبلبی پرانگلیوں کا نیلا پن ہے
یہ بھی پیوستہ گزشتہ سے ہے موسم
برگِ گل میں زرد رُت کا پیلا پن ہے
میں مزاجاً دھیمے پن کا آدمی ہوں
تیرے کپڑوں میں بہت بھڑکیلا پن ہے
کینچلی ہے سانپ کی بھی خوبصورت
اس کے بھی اندر کہیں زہریلا پن ہے
اونٹی پر پیاس کا ہے ساتواں دن
آندھیاں ہیں دشت کا سوتیلا پن ہے
محوِ حیرت ہوں کہ اُس بازار میں بھی
کیسے باقی اب تلک شرمیلا پن ہے
راستے مدِ مقابل آکھڑے ہیں
کیسا میرے پاؤں کا پتھریلا پن ہے
تبصرہ اس کے رویے پر کروں کیا
خار کی پہچان ہی نوکیلاپن ہے
ہم نفس منصور برسوں سے ہے سورج
گیلے من میں کچھ ابھی تک گیلا پن ہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s