قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 407
وہ جھوٹ بولتے پھرتے ہیں آیتیں پڑھ پڑھ
قرار دیں ہمیں کافر روایتیں پڑھ پڑھ
یہ چاہتے ہیں کہ کچھ دن گزاریں مرضی سے
جی تھک گیا ہے فلک کی ہدایتیں پڑھ پڑھ
شکار ہونا ہے احساسِ کمتری کا ہمیں
عجائباتِ جہاں کی حکایتیں پڑھ پڑھ
یہ لگ رہا ہے کہ جبریل اپنے اندر ہے
ورق ورق پہ اترتی عنایتیں پڑھ پڑھ
یہ ارتقاء کا تماشا ابھی ادھورا ہے
خیال آتا ہے ہستی کی غایتیں پڑھ پڑھ
یہ سوچتے ہیں ازل کتنا خوبصورت تھا
تباہ حال ابد کی نہایتیں پڑھ پڑھ
خزاں رسیدہ ہواکے خلاف ہونا تھا
گرے ہوئے کی مسلسل شکایتیں پڑھ پڑھ
حسابِ خرچۂ تدفین کر رہے ہیں ہم
بنک کاروں کی بھیجی کفایتیں پڑھ پڑھ
اے اہل کوفہ ہمیں یاد کربلا آئے
خطوط میں یہ ہزاروں حمایتیں پڑھ پڑھ
بڑھا سکے ہیں نہ قوت خرید کی منصور
ہر ایک چیز پہ اتنی رعایتیں پڑھ پڑھ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s