فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 413
انداز گفتگو کے، مدارات کے بھی دیکھ
فوٹو گراف ہوتی ہوئی بات کے بھی دیکھ
ممکن نہیں ہے قید میں رکھنا چراغ کو
یہ اضطراب اپنی سیہ رات کے بھی دیکھ
بادل پہن لیے ہیں درختوں کے جسم نے
یہ معجزے پہاڑ پہ برسات کے بھی دیکھ
اک آخری امید تھی مٹی میں مل گئی
کچھ روز اب تُو سختیِ حالات کے بھی دیکھ
قربت کی انتہا پہ ہیں صدیوں کے فاصلے
منصور سلسلے یہ ملاقات کے بھی دیکھ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s