فلک پہ تارے زمیں پہ درخت کون گنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 567
ملالِ عمر! ترا لخت لخت کون گنے
فلک پہ تارے زمیں پہ درخت کون گنے
شمار ہوتا اگرسلطنت کہیں ہوتی
میوزیم میں پڑے تاج وتحت کون گنے
انہیں کتابوں میں رکھو عدالتوں کیلئے
یہ بے نفاذ قوانینِ سخت کون گنے
مجھے تو عارض و لب کا حساب رکھناتھا
یہ خوبروں کے لہجے کر خت کون گنے
جو پاس ہے وہی رستے کا بس اثاثہ ہے
جو کھو گیا ہے اسے سازو رخت کون گنے
طلوع ہوتے نصیبوں کا دور ہے منصور
غروب ہوتے ہوئے بخت وخت کون گنے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s