عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 644
گوش بر آواز، کم آمیز کے پیچھے رہے
عمر بھر ہم خوابِ شب انگیز کے پیچھے رہے
ہاتھ چھونے کا کہاں موقع فراہم ہوسکا
اک طرف وہ اک طرف ہم میز کے پیچھے رہے
اونٹنی چلتی رہی تاروں سے رستہ پوچھ کر
رات بھر ہم صبح دل آویز کے پیچھے رہے
وہ سمندر سے لپٹ جاتی رہی ہر ایک بار
بس یونہی ہم موجِ تند و تیز کے پیچھے رہے
روح کی شب زندہ داری کی بہشتیں چھوڑ کر
جسم کی ہم وحشتِ شب خیز کے پیچھے رہے
چشمۂ دل سے نکل کر آنسوئوں کے ساتھ ہم
آنکھ کو آتی ہوئی کاریز کے پیچھے رہے
دوصدی پہلے مجھے کھینچا گیا تھا باندھ کر
پھر ہمیشہ یہ قدم انگریز کے پیچھے رہے
مسئلہ کشمیرکا منصور یہ ہے ، سب قزاق
زعفراں کی وادی ء زرخیر کے پیچھے رہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s