عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 351
نشاں بناتی تھیں پشت پر جووہی پرانی چٹائیاں تھیں
عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں
شبِ برگزیدہ دراز گیسو،ہمہ آفتاب نگاہ اس کی
چراغ ایسے تھے ہاتھ اس کے ، بہار ایسی کلائیاں تھیں
رتوں نے قوسِ قزح پہن لی تھی رنگ خوشبوسے مل گئے تھے
زمین پھولوں سے بھر گئی تھی کچھ ایسی چہرہ نمائیاں تھیں
جو لفظ مچلے زبانِ کُن پر،جو بات نکلی لبِ کرم سے
لکھوک ہا اس میں فائدے تھے کروڑ وں اس میں بھلائیاں تھیں
غلام شاہِ جہاں ہوئے ہیں جو خاک تھے آسماں ہوئے ہیں
پہاڑ اس کے ہوئیں کرم سے وہی جو محکوم رائیاں تھیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s