صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 503
شب گزار آئے گلیوں میں روتے ہوئے
صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے
ہم نے دریا کا پانی بھی کالا کیا
دکھ کے کپڑے کناروں پہ دھوتے ہوئے
چاپ مانوس سی،صحنِ دل میں اٹھی
غم نکل آئے کمروں میں سوتے ہوئے
ہم نے ہر ایک کانٹے کا دکھ سن لیا
پاؤں کے آبلوں میں چبھوتے ہوئے
ہم نے دیکھا تھا کتنی جگہ ہے ابھی
تیراغم اپنے دل میں سموتے ہوئے
اب یہ دنیا بچوں کے حوالے کریں
بیج سچ کے دماغوں میں بوتے ہوئے
رفتہ رفتہ کیا راکھ بینائی کو
اپنی پلکوں میں سورج پروتے ہوئے
اپنی شادی شدہ زندگی کی قسم
جیسے کولہو میں دو بیل جوتے ہوئے
خالی فائر گیا اُس نظر کا مگر
جو اڑے میرے ہاتھوں کے طوتے ہوئے
ہم نے منصور مانگا ہے اذنِ کلام
آسماں کو دعا سے بھگوتے ہوئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s