شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 570
رات بھر نازل ہوں فٹ پاتھوں پہ چاند الہام کے
شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے
خواب گہ میں ایک آتش دان روشن تھا مگر
سرد لمحے کانپتے تھے جنوری کی شام کے
بانس کے کمرے میں دھڑکن بج رہی تھی گیت کی
لان میں چپ برف اوڑھے پیڑ تھے بادام کے
قید ہیں کتنے برس سے جانتا کوئی نہیں
دکھ کی غاروں میں مسافر منزلِ خوشگام کے
بن گئے اپنی محبت کی وہ شریں یادگار
جو نواحِ کوچہ ء گل میں شجر تھے آم کے
اپنا کیا تھا کس لئے ہوتے خدا کے ہم نفس
اپنے تو منصور سے بھی رابطے تھے نام کے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s