سوچتا ہوں کیا کروں کیسے کہوں سوری اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 548
لے گئی ہے دور اتنا، ایک ہی غلطی اسے
سوچتا ہوں کیا کروں کیسے کہوں سوری اسے
رفتہ رفتہ نیم عریاں ہو گئی کمرے میں رات
لگ رہی تھی آگ کی تصویر سے گرمی اسے
ایک بستر میں اکیلی کروٹیں اچھی نہیں
بھول جانی چاہیے اب شام کی تلخی اسے
لوگ کتنے جگمگاتے پھر رہے ہیں آس پاس
ہے یہی بہتر بھلا دو تم ذرا جلدی اسے
اُتنا ہی مشکل ہے یہ کارِ محبت جانِ من
تم سمجھتے پھر رہے ہو جس قدر ایزی اسے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s