سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 640
اعمال میں اپنے حسن و خوبی ساتھ رہے
سلطان صلاح الدیں ایوبی ساتھ رہے
یہ پیڑ شریعت کے سایہ دار ہیں لیکن
کچھ ہوش کی وادی میں مجذوبی ساتھ رہے
دلدار کے نقشِ پاپیشانی پر چہکیں
محبوب کی گلیوں میں محبوبی ساتھ رہے
پُر وجد قوالی ہو یا عشق کی باتیں ہوں
ہر ایک عمل میں خوش اسلوبی ساتھ رہے
یہ ایک بروزِحشر گواہی کافی ہے
ظلمات کی جانب سے معتوبی ساتھ رہے
منصوراکیلا چھوڑا نہیں ہے رستے میں
اس شہرِ طلب میں درد بخوبی ساتھ رہے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s