سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 448
کلی لبادۂ تزئین سے نکل آئی
سفید آگ سیہ جین سے نکل آئی
دکھائی فلم کسی نے وصال کی پہلے
پھر اس کے بعد وہی سین سے نکل آئی
مرے خدا کی بھی قربان گاہ مٹی تھی
بہار پھول کی تدفین سے نکل آئی
اسے خرید لیا مولوی کفایت نے
جو نیکی سیٹھ کرم دین سے نکل آئی
چراغ لے کے میں بیٹھا ہی تھا کہ صبحِ ازل
خرامِ آبِ اباسین سے نکل آئی
مریدِ خاص ہوئی تخلیے کی آخرکار
خرد نصیحت و تلقین سے نکل آئی
حروف وردِ انا الحق پہ کرتے تھے مجبور
سو میری آنکھ طواسین سے نکل آئی
مجھے جگایا کسی نے یوں حسنِ قرات سے
کہ صبح سورۃ یاسین سے نکل آئی
گریزاں یار بھی تکرار سے ہوا کچھ کچھ
طبعیت اپنی بھی توہین سے نکل آئی
گزر ہوا ہے جہاں سے بھی فوج کا منصور
زمین گھاس کے قالین سے نکل آئی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s