سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 426
صبا طیبہ سے آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
قدم لینے لگے سبزہ ، شجر بھیجیں سلام اس پر
وہ گلشن میں جو آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کشادہ رکھتے ہیں اتنا درِ دل ہم چمن والے
کہ سایہ سرسرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
محبت کے بلکتے چیختے بے چین موسم میں
جو بلبل گنگنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
پہاڑی راگ کی بہتی ہوئی لے میں کہیں کوئی
ندی جب دکھ سنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
یہ انکا رنگِ فطرت ہے ، یہ انکا ظرف ہے منصور
کہ کانٹا زخم کھائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s