زندہ ہوئے کچھ اور اجالے مرنا ورنا بھول گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 518
صبحِ وطن کی کرنوں والے شام سے ڈرنا بھول گئے
زندہ ہوئے کچھ اور اجالے مرنا ورنا بھول گئے
سری نگر کے رستے پر تو موت ابھی تک راج کرے
جہلم کے ماتھے سے دن کے نور ابھرنا بھول گئے
ابھی تو کیرن سے آگے ہر پھول لہو کی خوشبو دے
آب رواں میں قوسِ قزح کے رنگ اترنا بھول گئے
سیبوں جیسے چہروں پر کہساروں کی برفاہٹ ہے
پیر چناسی پر اخروٹ کے پیڑ نکھرنا بھول گئے
اس کی یادیں سوچوں کو بکھرانے والامحشر تھیں
رات ہوئی تودیپ جلا کر طاق میں دھرنا بھول گئے
آنکھ اٹھا کر دیکھنے والی آنکھیں سجدہ ریز ہوئیں
اس کے آگے ہم سے سخنور بات بھی کرنا بھول گئے
موت زدہ کشمیر کا چہرہ پھولوں سا منصور کہاں
ایسی وحشت ناک فضا میں لوگ سنورنا بھول گئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s