زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 285
اپنے جینے کے فوائد کچھ تو ہوں
زندگانی کے مقاصد کچھ تو ہوں
میرے گیتوں کو پہن لو تتلیو!
پھول میرے بھی مقلد کچھ تو ہوں
کوئی اچھا کام کرنا چاہتا ہوں
شہر میں میرے بھی حاسد کچھ تو ہوں
جن کی جنگیں زندگی کے واسطے
ایسے بھی تیرے مجاہد کچھ تو ہوں
تیرے قبضے میں زمین و آسماں
کچھ اِ دھر بھی ذاتِ واحد! کچھ تو ہوں
اس کی آنکھیں تیغ تیورہی سہی
قتل کے لیکن شواہد کچھ تو ہوں
لرزہ بر اندام جن سے دیوتا
ایسے منکر ایسے ملحد کچھ تو ہوں
کچھ تو ہوں منصور باتیں دین کی
نور پھیلاتے عقائد کچھ تو ہوں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s