رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 519
پانیوں کو منجمد ہوناتھا آخر ہو گئے
رُت بدلنے پر پرندے پھر مسافر ہو گئے
ہر طرف گہری سفیدی بچھ گئی ہے آنکھ میں
ایک جیسے شہر کے سارے مناظر ہو گئے
پھیر دی چونے کی کوچی زندگی کے ہاتھ نے
جو مکاں ہوتے تھے لوگوں کے مقابر ہو گئے
کھڑکیاں جیسے مزاروں پر دئیے جلتے ہوئے
چمنیاں جیسے کئی آسیب ظاہر ہو گئے
بین کرتی عورتوں کی گائیکی لپٹی ہمیں
روح کے ماتم کدے کے ہم مجاور ہو گئے
برف کی رُت سے ہماری سائیکی لپٹی رہی
اک کفن کے تھان میں سپنے بھی شاعر ہو گئے
بے پنہ افسردگی کی ایک ٹھنڈی رات میں
کم ہوئیں منصور آنکھیں خواب وافر ہو گئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s