روہی دو فرلانگ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 438
پیر فرید کی بانگ ہوئی
روہی دو فرلانگ ہوئی
آنکھ سے دیکھا باہو کی
دنیا ایک سوانگ ہوئی
شاہ حسین کی بستی میں
مادھولال کی مانگ ہوئی
بول وہ بلھا بول گیا
پار جگر کے سانگ ہوئی
اربوں سال کی تنہائی
اپنی ایک چھلانگ ہوئی
بات ہوئی بس اوروں سے
کال ہمیشہ رانگ ہوئی
کوئی کہاں منصور ملا
عمر سراپا تانگ ہوئی
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s