روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 404
آگ تھی رنگ تھے اور مے تھی کہیں
روشنی سے بنی کوئی شے تھی کہیں
سو گئی رات کے سائے گنتی ہوئی
جو ملاقات گلیوں میں طے تھی کہیں
میرے جیسا کوئی اور بیلے میں تھا
بانسری کی فسردہ سی لے تھی کہیں
شور تھا شہر میں عشق کاہر طرف
کوئی تازہ محبت کی نے تھی کہیں
اس کے اندر اترنا ہے گہرائی تک
سیکھتا جا کے ہوں ٹیلی پیتھی کہیں
جگمگاتی پھرے عشقِ منصور میں
کوئی سیتی کہیں کوئی کیتھی کہیں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s