دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 546
نیم عریاں کر گئی ہے رقص کی مستی اسے
دیکھنے کو جمع ہے ترسی ہوئی بستی اسے
جیسے حرکت کا بہاؤ، جیسے پانی کا مزاج
کھینچتی ہے اپنی جانب اس طرح پستی اسے
ایک ہی بیڈ روم میں رہتے ہوئے اتنا فراق
چوم لینا چاہیے اب تو زبردستی اسے
کھینچ لایا میرے پہلو کی سنہری دھوپ میں
شامِ شالا مار کا باغیچہء وسطی اسے
اس سیہ پاتال میں ہیں سورجوں کی بستیاں
زینہ در زینہ کہے، بجھتی ہوئی ہستی اسے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s