دید کو بے وضو نہیں کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 522
زخمِ گریہ رفو نہیں کرتے
دید کو بے وضو نہیں کرتے
کام کرتے ہیں جتنا ہوتا ہے
بے سبب گفتگو نہیں کرتے
ہم روایت شکن عقیدوں کے
طوق زیبِ گلو نہیں کرتے
جنگ کرتے ہیں موت سے لیکن
خودکشی جنگجو نہیں کرتے
اس قدر شہر میں ہے سناٹا
خوف بھی گفتگو نہیں کرتے
اپنے ہوتے ہوئے کبھی منصور
اور کی آرزو نہیں کرتے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s