دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 581
اون بھیڑوں کی فقط ساتھ تھی گرمی بن کے
دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے
شب زدوں کیلئے کرنوں بھری نظمیں لکھوں
ظالموں سے میں لڑوں دیس کا فوجی بن کے
کرچیاں شہر میں اڑتی ہوئی دیکھوں اس کی
جو مجھے دیکھتا پھرتا تھا بلندی بن کے
گفتگو اس کی ترو تازہ مجھے رکھتی ہے
ملنے آتی ہے ہمیشہ وہ تسلی بن کے
شہر میں پھرتا ہے دھیما سا وہی گرد و غبار
جو گزر آیا ہے صحراؤں سے آندھی بن کے
کوئی سمجھائے اسے چھوڑ دے پیچھا میرا
روز آجاتی ہے قسمت کی جو سختی بن کے
ڈوبتے جاتے ہیں پانی کے تلاطم مجھ میں
پھیلتا جاتا ہوں دریاؤں میں خشکی بن کے
طے شدہ وقت پہ ہر روز جگا دیتا ہے
مجھ میں موجود ہے گھڑیال خرابی بن کے
ڈھونڈے ماخد ہیں کئی قبروں کے کتبے پڑھ کر
یعنی تاریخ لکھی عہد کی طبری بن کے
میری بربادی کی سامان کئے جاتے ہیں
دیکھتا رہتا ہوں لوگوں کو میں بستی بن کے
ان میں کتنے ہیں جو آئندہ بھی ہونگے موجود
دفن مٹی میں ہوئے لوگ جو ماضی بن کے
جس کے رنگوں سے جلے قوسِ قزح بھی منصور
کرتی ہے میرا تعاقب وہی تتلی بن کے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s