دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 199
مٹی ذرا سی قریہء لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض
جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامنِ صد چاک کے عوض
اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض
وہ پیٹ برگزیدہ کسی کی نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض
مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض
دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض
بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض
غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض
ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض
جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ اشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہء بیباک کے عوض
کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدئہ نمناک کے عوض
آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض
نظارئہ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض
منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s