دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 417
جسم نا پاک پر جامہء پاک بے فائدہ
دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ
صاحبِ فہم ہو توتمہیں اک الف کافی ہے
یہ کتابوں بھرا عقل و ادراک بے فائدہ
آدمی آخری حد ہے تشکیل و تخلیق کی
گردشِ وقت کا گھومتا چاک بے فائدہ
اس کی ساری توجہ رہی اپنی تلوار کی دھار پر
میں نے پہنی ہے زخموں کی پوشاک بے فائدہ
اِس دماغِ شرر خیز میں جھوٹ کے ڈھیر ہیں
تیری دستار کے اتنے پیچاک بے فائدہ
کون سا ا س نے منصور کمرے میں آ جانا ہے
گریۂ شب کا شورِ المناک بے فائدہ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s