دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 506
صدیوں کے آسیب زدہ دیوار ودر آباد ہوئے
دار ورسن کی منزل پر کچھ بخت آور آباد ہوئے
دریا تیرے ساحل تو جاگیر ہیں تیری گاؤں کا کیا
گاؤں ادھر برباد ہوئے تو گاؤں ادھر آباد ہوئے
خواب سنانے والوں کا اب دیس میں رہنا جرم ہوا
سات سمندر پار کہیں جا شہر بدر آباد ہوئے
شام کی بھیگی نرم ہوا نے لہروں سے سرگوشی کی
اور پرندوں کے کچھ جوڑے ساحل پر آباد ہوئے
جب بھی اپنے گاؤں گئے ہم ، بند مکاں کا دروازہ
پوری تیس برس تک دیکھا آخر گھر آباد ہوئے
عمر گزاری جا سکتی تھی خاک نگر منصور مگر
عرش پہ ہونگے ہم آوارہ گرد اگر آباد ہوئے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s