حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 176
اک ایک ڈاٹ کام پہ رسوائی دیکھ کر
حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر
سگریٹ کی سمت بڑھ گیا پھر اس کا نرم ہاتھ
پہلے پہل ذرا ہمیں شرمائی دیکھ کر
یہ اور بات ڈوب گئے ہیں کہیں مگر
رکھا تھا پاؤں پانی کی گہرائی دیکھ کر
ہم آ گئے وہاں کہ جہاں واپسی نہیں
اس کی ذرا سی حوصلہ افزائی دیکھ کر
افسوس صبحِ عمر جہنم میں جھونک دی
اک لمس پوش رات کی رعنائی دیکھ کر
دانتوں سے کاٹ کاٹ لیں اس نے کلائیاں
میری کسی کے ساتھ شناسائی دیکھ کر
ہم نے تمام رات جلائی ہیں خواہشیں
دل ڈر گیا تھا برف سی تنہائی دیکھ کر
آتے ہیں زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی
جب رو پڑے تماشا ، تماشائی دیکھ کر
بس انتہائیں حسن کی معلوم ہو گئیں
زیبا علی ظہور کی زیبائی دیکھ کر
واپس پلٹ گئے جنہیں شوقِ وصال تھا
بس پہلے آسمان کی پہنائی دیکھ کر
ہم آئینے کے سامنے تصویر ہو گئے
آنکھوں میں اس کی انجمن آرائی دیکھ کر
پھر ایک اور شخص گلی سے گزر گیا
پھر بج اٹھا تھا دل کوئی پرچھائی دیکھ کر
اک دلنواز گیت سا مدہم سروں کے پیچ
برسات گنگناتی تھی پروائی دیکھ کر
معجز نما ہے صبحِ ازل سے وصالِ یار
حیراں نہ ہو بدن کی مسیحائی دیکھ کر
اندھی سڑک پہ بھاگ پڑی رات کی طرف
یک لخت اتنی روشنی بینائی دیکھ کر
کس کس کے ساتھ جنگ کریں گے دیار میں
ہم سوچتے ہیں تیرے تمنائی دیکھ کر
منصور زندگی کی کہانی سمجھ گئے
دریائے تند و تیز کی دارائی دیکھ کر
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s