حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 326
افسردگی کی پھیلتی جھاڑی تھی اور میں
حد سے بڑھی ہوئی مری داڑ ھی تھی اور میں
ضد میں تھا کہ پہنچنا ہے بس دوسری طرف
ناقابل عبور پہاڑی تھی اور میں
بے سمت جا رہا تھا بہت ہی سپیڈ میں
پچھلا پہر تھا رات کا، گاڑی تھی اور میں
پہنے ہوئے تھاکوئی فقیرانہ سا لباس
اس کے بدن پہ قیمتی ساڑھی تھی اور میں
منصور سرد و گرم چشیدہ تھا ہجر میں
وہ بزمِ عاشقاں میں اناڑی تھی اور میں
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s