جیسے موٹر وے کی سروس پر کچھ دیر رکے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 583
گھونٹ بھرا چائے کا تیرے گھر کچھ دیر رکے
جیسے موٹر وے کی سروس پر کچھ دیر رکے
حیرانی سے لوگ بھی دیکھیں میری آنکھ کے ساتھ
کیمرہ لے کے آتا ہوں … منظر کچھ دیر رکے
اتنی رات گئے تک کس ماں کے پہلو میں تھا
کتے کا بچہ اور اب باہر کچھ دیر رکے
کیسی کیسی منزل ہجرت کرتی آتی ہے
دیس سے آنے والی راہ گزر کچھ دیر رکے
چاروں طرف بس خاموشی کی چاپ سنائی دے
یہ لاکھوں سال پرانی صرصر کچھ دیر رکے
وہ منصور کبھی تو اتنی دیر میسر ہو
اس کی جانب اٹھے اور نظر کچھ دیر رکے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s