جیسے دوزخ میں میرا بستر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 80
خواب اتنا زیادہ ابتر تھا
جیسے دوزخ میں میرا بستر تھا
میرے آنے پہ کیوں دھڑک اٹھا
تیرا دل تو ازل سے پتھر تھا
جس کو چاہا اسی کو جیت لیا
جانے کیا اس کے پاس منتر تھا
کوئی باہوں کی دائرے میں تھی
اور تعلق کا پہلا چیتر تھا
بند درزیں تھیں رابطوں والی
اس کی دیوار پر پلستر تھا
راستے کے بڑے مسائل ہیں
مجھ سے کچھ پوچھتے تو بہتر تھا
وردِ الحمد کی صدا منصور
صبح ابھری کہیں تو تیتر تھا
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s