جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 590
دکھا رہا ہے بدن پھر نیا نکور مجھے
جگا رہا ہے سحر کا سفید شور مجھے
مقابلہ کا کہے موسموں کی وحشت سے
نکل کے دھوپ کی پیٹنگ سے تازہ تھور مجھے
میں رات رات نہاتا تھا جس کی کرنوں سے
وہ بھولتا ہی نہیں ہے سیہ بلور مجھے
مثالِ مصرعِ غالب مرے بدن پہ اتر
لبِ سروش صفت اور کر نہ بور مجھے
یا مری ذات کا کوئی وجودہے ہی نہیں
یا زندگی میں ملے لوگ چشم کور مجھے
عجب ہیں میری محبت مزاجیاں منصور
سمجھ رہا ہے کوئی چاند پھر چکور مجھے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s