جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 242
گرفتِ زر کے گرفتاروں میں رہائی بانٹ
جو چار لوگوں کے گھر ہے وہ دو تہائی بانٹ
تُو مجھ کو چھوڑ، کسی اور سے تعلق رکھ
تمام شہر میں اپنی نہ بے وفائی بانٹ
مجھے بھی بخش تصرف کسی کے خوابوں پر
ذرا سی اپنے فقیروں میں بھی خدائی بانٹ
پلٹ پلٹ کے نہ دیکھ اُس کا دل ربا چہرہ
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
یہ لوگ شعر کو دیکھیں تری بصارت سے
دیارِ حرف میں آنکھیں جلی جلائی بانٹ
کتابِ ذات کی بے چہرگی کو چہرہ دے
ہزار سال پہ تقریب رونمائی بانٹ
عجیب قحط ہے لوگوں کو عشق بھول گیا
تمام گاؤں میں گندم کٹی کٹائی بانٹ
سنا ہے شہر میں تیری کئی دکانیں ہیں
مرے امام! ذرا زہد کی کمائی بانٹ
ترے لیے تو ہے بد، سات کا عدد منصور
تُو آٹھ روز پہ تقویم کی اکائی بانٹ
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s