جوکھل نہیں سکا دروازہ توڑنا ہے مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 592
اجل پہننی ہے بھونچال اوڑھنا ہے مجھے
جوکھل نہیں سکا دروازہ توڑنا ہے مجھے
کسی سے میلوں پرے بیٹھ کر کسی کے ساتھ
تعلق اپنی نگاہوں کا جوڑنا ہے مجھے
نکالنا ہے غلاظت کو زخم کے منہ سے
یہ اپنے ملک کا ناسور پھوڑنا ہے مجھے
کسی کا لمس قیامت کا چارم رکھتا ہے
مگر یہ روز کا معمول توڑنا ہے مجھے
مجھے زمیں کو تحفظ فراہم کرنا ہے
رخ آسمانی بلاؤں کا موڑنا ہے مجھے
فش اینڈ چپس سے اکتا گیا ہوں اب منصور
بس ایک ذائقے کا وصل چھوڑنا ہے مجھے
منصور آفاق

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s